ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منتخب نمائندوں کو مدعو نہ کرنے ہائی کورٹ کے سرکیولر پر اسمبلی میں برہمی

منتخب نمائندوں کو مدعو نہ کرنے ہائی کورٹ کے سرکیولر پر اسمبلی میں برہمی

Sat, 11 Feb 2017 10:50:08    S.O. News Service

بنگلورو،10؍فروری(ایس او نیوز)عدالت کی عمارتوں کے افتتاحی جلسوں میں منتخب نمائندوں کو مدعو نہ کئے جانے کے سلسلے میں ریاستی ہائی کورٹ کی طرف سے جاری سرکیولر آج اسمبلی میں زیر بحث آیا ،اور اراکین نے ہائی کورٹ کی اس حرکت کو مراعات شکنی سے تعبیر کرتے ہوئے اس سلسلے میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہائی کورٹ نے اس طرح کا سرکیولر جاری کرکے مقننہ کی توہین کی ہے۔پارٹی امتیازات سے بالا تر ہوکر تمام ممبران نے اس سے اتفاق کیا۔ لیجسلیچر کے مشترکہ اجلاس سے گورنر کے خطاب پر تحریک تشکرکی بحث کے دوران سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی جب تقریر کررہے تھے تو انہوں نے عدالت کی طرف سے اس سرکیولر کا معاملہ اٹھایا۔اس سے تمام ممبران نے اتفاق کیا اور کہاکہ عدالتوں میں جو لوگ بیٹھے ہیں وہ تمام کے تمام دودھ کے دھلے نہیں ہیں۔ وہ کیا ہیں یہ ہم جانتے ہیں۔ ایک سرکیولر کے ذریعہ اگر عدالتیں منتخب نمائندوں کی توہین کرنا چاہتے ہیں تو اس پر خاموش رہنا ممکن نہیں ، اس سرکیولر کے ذریعہ عدالتوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ تمام کے تمام بہت سچے ہیں اور سیاست دان دھوکہ باز۔ جنتادل (ایس) کے وائی ایس وی دتہ کے ان خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے ایم ٹی کرشنپا نے کہاکہ کمار سوامی کے دور اقتدار میں جج بنانے کیلئے کئی لوگ آکر ان کے پیروں پر گرے ۔ اب اگر جج بن گئے ہیں تو یہ مقننہ کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ بی جے پی کے سی ٹی روی نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو نوٹس جاری کیا جائے۔درمیان میں اپوزیشن لیڈ رجگدیش شٹر نے بھی حکومت سے اس سلسلے میں کارروائی کی مانگ کی۔ اراکین کے ان اعتراضات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے کہاکہ دو دن قبل ہی اس سلسلے میں انہوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کی اور ایوان کے تاثرات سے آگاہ کروایا ہے اور گذارش کی ہے کہ اس سرکیولر کے تحت جو کوتاہی ہوئی ہے اسے دور کرلیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ اور مقننہ کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال اچھی علامت نہیں ہے، حکومت اس بات کی کوشاں ہے کہ ٹکراؤ کے اس سلسلے کو ختم کیا جائے۔


Share: